لندن،14؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)عراق سے متصل ایران کے جنوب مغربی صوبہ کرمان شاہ کے شہر ثلاث بابا جانی میں حال ہی میں ایرانی فوج کی ایک کارروائی کے دوران 12کرد کارکنوں کی ہلاکت کے بعد تہران پر کردوں کے خلاف کارروائیوں میں مہلک اور عالمی سطح پر ممنوعہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ایران میں کردوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم کردستان فری لائف کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی فوج کرد اپوزیشن کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے کے ساتھ ساتھ کرد آبادی کے خلاف کارروائیوں میں کیمیائی ہتھیار استعمال کررہا ہے۔کرد تنظیم نے اپنی ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک بیان میں کہا ہے کہ چند روز قبل ایرانی فوج کے ایک وحشیانہ کارروائی کے دوران اس کے بارہ کارکنوں کو ہلاک کردیا تھا۔ تنظیم ایرانی فوج کی اس کارروائی کا انتقام لے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جب فریقین میں پہلے سے جنگ بندی موجود ہے تو ایرانی فوج اس جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کیوں کررہی ہے۔خیال رہے کہ پاسداران انقلاب نے گذشتہ منگل کو جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی فوج نے عراق کی سرحد کے قریب ایک دہشت گرد گروپ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اس کے بارہ جنگجو ہلاک کردیے ہیں۔پاسداران انقلاب کے بریگیڈیئر محمد باکبور نے نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کو بتایا کہ تھا کہ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی تھی جب عراق کی سرحد سے مشتبہ کرد جنگجو ایران کی سرزمین میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ایرانی فوجی کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات آئی تھیں۔کرد تنظیم کے سیاسی ونگ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی دشمن نے اس کے متعدد کارکنوں کو فضائی اور زمینی آپریشن کے دوران قتل کیا ہے اور ان کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں۔